امپھال، 11/ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) منی پور میں گزشتہ سال 3 مئی سے جاری ہنگامہ آرائی کا سلسلہ ابھی تک ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ تازہ تشدد کی وارداتوں نے ایک بار پھر منی پور کو آگ کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ حکومت نے کئی اضلاع میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے اور مظاہرین سے نمٹنے کے لیے سی آر پی ایف کے مزید 2 ہزار جوان تعینات کر دیے ہیں۔ امن کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے خلاف اس کارروائی پر کانگریس نے مرکزی اور ریاستی حکومت کی شدید مذمت کی ہے اور منی پور میں تشدد کی تحقیقات سپریم کورٹ کی نگرانی میں کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
طلبہ نے پیر کو راج بھون کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے بعد امپھال کے مشرقی اور مغربی اضلاع میں غیر معینہ مدت تک کیلئے کرفیو لگا دیا گیا ہے جبکہ تھاؤبل میں پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نظم و نسق کی ابتر صورتحال کے باعث کرفیو میں رعایت کے پچھلے احکامات کو فوری طور پر۱۰؍ ستمبر کو صبح۱۱؍ بجے سے منسوخ کردیا گیا ہے۔یہ حکم ایسے وقت میں آیا ہے جب منی پور میں طلبہ ریاستی حکومت کے پولیس سربراہ (ڈی جی پی) اور سلامتی کے مشیر کو ہٹانے کی اپنی درخواست پر احتجاج کو تیز کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ طلبہ کا الزام ہے کہ ڈی جی پی اور سلامتی مشیر ریاست میں نظم و نسق کو سنبھالنے میں ناکام ہیں۔ اس درمیان پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کو مظاہرین نے فائرنگ کی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا ہے۔
طلبہ کے احتجاج کے پیش نظرریاست میں تمام انٹرنیٹ خدمات پر منگل سے۱۵؍ ستمبر تک پابندی لگا دی گئی ہے۔ بعد ازاںگورنر ایل پی آچاریہ نے ایک بیان میں کہا کہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور اس سے چھٹکارا پانے کے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔انہوں نے سماج کے تمام طبقات، طلبہ تنظیموں اور عوامی لیڈروں سے امن اور ہم آہنگی کے قیام کیلئے مل کر کام کرنے کی اپیل بھی کی۔
دریں اثناکانگریس نے وزیر اعظم مودی پر منی پور میں تشدد کو روکنے میں ناکام ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہاں حالات معمول پر لانے کی کوشش کی جانی چاہئے،اس کیلئے ضروری ہے کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں تشدد کی جانچ ہو۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ جب بھی ایسا لگتا ہے کہ منی پور معمول پر آ رہا ہے، ویسے ہی وہاں تشدد کی کوئی واردات ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’منی پور میں راکٹ لانچر جیسے جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال حیران کن ہے اور۱۶؍ ماہ کے تنازع کے بعد بھی اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔‘‘
کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے تشدد کے تازہ واقعات کو مرکزی حکومت کی ناکامی قرار دیا ہے اور اس حوالے سےاس پر شدید حملہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ منی پور تقریباً ڈیڑھ سال سے جل رہا ہے۔ یہ خطہ روزانہ تشدد، قتل، فساد اور نقل مکانی سے جوجھ رہا ہے۔ یہاں گھر جل رہے ہیں اورخاندان اجڑ رہے ہیں، زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں، ہزاروں خاندان راحتی کیمپوں میں دن کاٹنے پر مجبور ہیں لیکن وزیر اعظم جی نے اسے روکنے کی اب تک کوئی کوشش تک نہیں کی۔ انہوں نے اسے وزیراعظم مودی کی بے حسی قرار دیا۔
موجودہ حالات پر قابوپانے کیلئے مرکزی حکومت نے ریاست میں سی آر پی ایف کے مزید ۲؍ ہزار جوان بھیجے ہیں۔ اسی بیچ وزیراعلیٰ بیرن سنگھ نے طلبہ تنظیموں کے کچھ نمائندوں سے بات چیت بھی کی ہے لیکن مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکا ہے کیونکہ حکومت، طلبہ کے مطالبات کوتسلیم کرنےکیلئے تیار نہیں ہے۔ خیال رہے کہ تازہ ترین تشدد کے واقعات میں کم از کم۸؍ افراد کی موت ہو چکی ہے اور۱۲؍ سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔